Home / Homeremedies / Health benefits of methi

Health benefits of methi



Fenugreek (also known as Greek Hay and Fenigreek), is an herb that is commonly found growing in the Mediterranean region of the world. While the seeds and leaves are primarily used as a culinary spice, it is also used to treat a variety of health problems in Egypt, Greece, Italy, and South Asia.

Fenugreek seeds have been found to contain protein, vitamin C, niacin, potassium, and diosgenin (which is a compound that has properties similar to estrogen). Other active constituents in fenugreek are alkaloids, lysine and L-tryptophan, as well as steroidal saponins (diosgenin, yamogenin, tigogenin, and neotigogenin).

What are the Benefits of Fenugreek?

Due to its estrogen-like properties, fenugreek seeds have been found to help increase libido and lessen the effect of hot flashes and mood fluctuations that are common symptoms of menopause and PMS. In India and China it has also been used to treat arthritis, asthma, bronchitis, improve digestion, maintain a healthy metabolism, increase libido and male potency, cure skin problems (wounds, rashes and boils), treat sore throat, and cure acid reflux. Fenugreek also has a long history of use for the treatment of reproductive disorders, to induce labor, to treat hormonal disorders, to help with breast enlargement, and to reduce menstrual pain. Recent studies have shown that Fenugreek helps lower blood glucose and cholestrol levels, and may be an effective treatment for both type 1 and 2 diabetes. It is also being studied for its cardiovascular benefits.


میتھی  پاک و ہند کے تقریباً سبھی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے لیکن قصور کی میتھی زیادہ مشہور ہے۔ اس کے پودے کی اونچائی ایک سے ڈیڑھ فٹ ، پتے کچھ لمبے گول
دانہ دار 1/2 سے ایک ڈیڑھ انچ تک لمبے، پھول پیلے، پھلی دو سے چودہ انچ لمبی جس کے اندر پیلے اور سبز رنگ کے بیج ہوتے ہیں جن کو میتھی دانہ کہا جاتا ہے۔ میتھی کا سالن خصوصاً پاک و ہند کے تقریباً تمام علاقوں میں بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ مشہور کثیرالاستعمال سبزی ہے جس کے پتے اور بیج بطور دوا بھی مستعمل ہیں ۔

ہندی ‘ اُردو ‘بنگالی ‘گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ، فارسی میں شملیت، پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے۔ لا طینی زبان میں اس کا نام Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اچار کے مسالے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یونانی اور آیورویدک دوائوں میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سالن پیشاب آور ہے۔ میتھی موسم سرما کے امراض ‘ کمر درد ‘تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔ میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں۔ چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کے لیے اکثر اُبٹنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔

میتھی کے بیجوں کو پانی میں پیس کر ہفتے میںکم ازکم دوبار ایک گھنٹا تک سر پر لگا کر دھو نے سے بال لمبے اور گرنا بند ہو جاتے ہیں ۔ امراض نسواں میں تخم میتھی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ بچہ دانی کے ورم‘ درد اور دیگر گائنی کے امراض میں موثر ہے۔ میتھی پیٹ کے چھوٹے کیڑوں(چنونوں) کو مارتی ہے، ہاضمہ درست کرتی ہے۔ بلغمی مزاج والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ سردی سے محفوظ رکھتی ہے۔ دیہات میں بچے کی پیدائش کے بعدزچہ کو اس کے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں ۔

آنتوں کی کمزوری سے اگر دائمی قبض ہو تو میتھی کا سفوف گڑ ملا کر صبح و شام پانچ گرام پانی کے ساتھ کھانے سے کچھ دنوں تک نہ صرف دائمی قبض دور ہو گی بلکہ جگر کو بھی طاقت ملے گی ۔ میتھی شوگر اور گنٹھیا میں بھی بہت مفید ہے۔ اس کے لیے میتھی کے تازہ پتے 10گرام پانی میں پیس کر صبح نہار منہ استعمال کریں ۔

ذیابیطس (شوگر ) اور میتھی کی کرامات
ذیابیطس کے علاج میں میتھی کو انتہائی موثر پایا گیا ہے۔ راشٹر یہ پوشن انو سندھان حیدر آباد (بھارت) کے ڈاکٹر آرڈی شر ما ورگھورام اور دیگر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابیطس کے علاج کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی۔ انھوں نے ہزاروں مریضوں کو تخم میتھی استعمال کروایا ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابیطس اور دل کے امراض میں مفید ہیں۔ میتھی کے بیج روزانہ 20 گرام درد رے پیس کر کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ علامات مرض میںکمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹیسٹ کر وا لیا جائے۔

شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو دردرا پسو ا لیتا ہوں اور صبح دوپہر شام 10-10گرام سادہ پانی سے استعمال کرواتا ہوں۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔

مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابیطس میں انتہائی مفید ہے۔ اس دوران چاول ، آلو ، گوبھی ، اروی کیلا اور دیگر میٹھی اشیا سے پرہیز ضروری ہے۔ صبح کی سیر بھی لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہو ں تو کوئی حرج نہیں ۔

About healthadmin

Check Also

HEPATITIS C PROTECTION TREATMENT IN URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published.